Sunday, 12 April 2020

Types of Corona viruses,A.B.

*Cambridge University* published a paper 9th April, 2020, thinking that the *new coronavirus type A is the root cause of the virus outbreak, and the type A appears in the United States* and Australia. The virus that appears in Wuhan belongs to the type B, which is derived from the type A mutation.
This paper was published in the Proceedings of the American Academy of Sciences. If the conclusion is true, it is a blessing for Chinese and global Chinese.

Cambridge University published a research report on several variants and transmission routes of the new coronavirus.

The report pointed out that the new coronavirus is divided into three variants: A, B, C. *Type A viruses are more commonly found in infected people in the United States* and Australia. There are only a few cases of Class A in Wuhan, and they come from Americans who have lived in Wuhan. Type A is most similar to viruses extracted from bats and pangolins. Researchers call the class A virus "the root of the outbreak" ("the root of the outbreak").

Type B strains are the main type in China (ie Wuhan) and have not spread out of East Asia.

Class C viruses are the main type in Europe. Hong Kong, Singapore, and South Korea all have this type. It was not found in mainland China.

The researchers believe that strain C type evolved from B, and type B evolved from A.

The research methods used by the researchers have previously been mainly used to track the movement of prehistoric people through DNA research. This is the first time it has been used to track the propagation path of the new coronavirus (“These technologies” are most known known for mapping ”the movements of prehistoric human population populations through DNA. coronavirus like COVID-19. ”)

Original address: https://www.cam.ac.uk/research/news/covid-19-genetic-network-analysis-provides-snapshot-of-pandemic-origins

The paper was published today in PNAS (Proceedings of the American Academy of Sciences), link to the paper: https://www.pnas.org/content/early/2020/04/07/2004999117

Thursday, 2 April 2020

Corona viruses game in Urdu

Corona viruses game in Urdu ,


موجودہ کرونا واٸرس پر موصول شدہ ایک آرٹیکل مزید اضافہ جات کے ساتھ*
تحریر جس میں کرونا کا ایک رخ جو ہم دیکھ رہے ہیں لیکن اس کا ممکنہ دوسرا رخ بھی ہے ملاحظہ فرمائیں۔
اس سے پہلے ایک اہم بات سمجھ لیجیے کہ دنیا میں باسسز (Bosses) کے شروع سے 2 گروپس ہیں. جن کے نائن الیون کے بعد سے جاری نیو ورلڈ آرڈر کی رو سے مندرجہ ذیل خدوخال ہیں.
*1 جنگی گروپ*
جو زیادہ تر یو ایس، برطانیہ، نیٹو و یورپی اتحادی ممالک اور ان سے منسلک ممالک پر مشتمل ہے
*2 تجارتی گروپ*
یہ گروپ چین، روس، شمالی کوریا اور ان سے منسلک ممالک پر مشتمل ہے
🚨 سکے کا دوسرا رخ *چائنا بشمول تجارتی گروپ اعلی کھیل کھیلنے میں کامیاب رہا*
*پہلا سین دسمبر 2019 😗* پردہ اٹھتا ہے: چائنا میں بیماری پھیلتی ہے. جو چائنا کے لیے بڑی مصیبت بن جاتی ہے اور اسکی تجارتی طاقت کو مفلوج کر دیتی ہے. پردہ گر جاتا ہے.
*دوسرا سین جنوری 2020 کے اوائل* پردہ اٹھتا ہے: چائنیز یو آن تیزی سے اپنی قدر کھونے لگتا ہے اور چائنا اس بابت کچھ نہیں کر پاتا. پردہ گر جاتا ہے.
*تیسرا سین جنوری 2020 کا آخر* پردہ اٹھتا ہے: چین میں تجارت بند ہونے کی وجہ سے تمام ایسی امریکی اور یورپی کمپنیاں جو چائنا کی بنیاد پر کام کر رہی تھیں سب کے مارکیٹ شئیرز 40 فیصد تک اپنی قدر کھو دیتے ہیں.
*چوتھا سین فروری 2020* پردہ اٹھتا ہے : پوری دنیا میں کرونا وائرس تیزی سے پھیلنے لگتا ہے. اسی دوران چائنا خاموشی سے بیل آؤٹ پیکج کے نام پر ناصرف اپنے ملک کی کرونا واٸرس کی وجہ سے بند ہو جانے والی بیشتر لوکل کمپنیاں خرید لیتا یے بلکہ ان تمام یورپی اور امریکی کمپنیوں کے بھی 30 فیصد تک شئیرز خرید لیتا ہے. پردہ پھر سے گر جاتا ہے.
*پانچواں سین مارچ 2020* پردہ اٹھتا ہے: چائنا کرونا وبا پر قابو پا لیتا ہے اسی اثنا میں یورپی اور امریکی کمپنیوں پر کنٹرول حاصل کر چکا ہوتا ہے اور فیصلہ صادر کرتا ہے کہ چونکہ چین اب بیماری پر قابو پا چکا ہے اور یورپ و امریکہ اس سے بری طرح متاثر ہیں سو تمام کمپنیاں چین میں ہی رہ کر اربوں ڈالر وبائی مرض سے متعلقہ تجارت کی مد میں کما سکتی ہیں.
بالکل اعلی ترین شطرنج کی شہہ جیسی چال!
*چھٹا سین مارچ 2020 کا آخر* *شہہ اور مات*
*ناقابل یقین لیکن بیں مشاہدہ*
ورلڈ میڈیا پر دو ویڈیوز آتی ہیں، جن کی وجہ سے مجھے سمجھ آتی ہے کہ کرونا وبا تجارتی گروپ نے جان بوجھ کر پروپیگنڈہ کے طور پر پھیلائی ہے، میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ نقطوں کو جوڑ کر پوری تصویر بناؤ پھر ہی سمجھ سکو گے کہ عالمی پیمانے پر ہو کیا رہا ہے؟.
*پہلا نقطہ* کہ چین پہلے سے پوری طرح تیار تھا. چائنیز نیو ائیر اور اس سے منسلکہ چھٹیاں ایسے کام کے لیے بہترین وقت تھا جب یورپی و امریکی اقوام اپنے بلیک فرائیڈے اور کرسمس جیسے تہواروں میں پوری طرح مگن تھے. جیسے ہی یہ سب شروع ہوتا ہے ایک ہی ہفتہ گذرنے پر اگلے 2 ہفتوں کی ناقابل یقین مدت میں ووہان کے ایپک سینٹر میں 12 ہزار بستروں کا ہسپتال بن جاتا ہے جیسے تمام مطلوبہ سامان پہلے سے ایک جگہ موجود ہو اور قلیل ترین مدت میں صرف اسے جوڑ کر دنیا کو ششدر کر دیا جائے اور ساتھ میں پوری طرح ڈرا دیا جائے کہ معاملہ بے حد خطرناک ہے لیکن دیکھو ہماری طاقت کہ پوری دنیا میں امریکہ جیسا ملک بھی یہ نہیں کر کے دکھا سکتا جو ہم نے کر دکھایا. ذہن میں رکھیں 12 ہزار بستر کا پوری طرح آپریشنل ہسپتال.
اعلی بہت ہی اعلی کام!
اب کل 24 مارچ کو چائنیز اعلان کرتے ہیں کہ انھوں نے وبا پر قابو پا لیا ہے.
چائنا سے ایسی ویڈیوز ورلڈ میڈیا پر آتی ہیں کہ وہ اس *"ناگہانی آفت"* کی شکل میں نازل ہونے والی کرونا وبا کو شکست دے چکے ہیں اور خوشیاں منا رہے ہیں اسی اثنا میں باقی پوری دنیا قریباً لاک ڈاؤن ہو چکی ہوتی ہے انڈیا جیسا دنیا کی قریباً 1 چوتھائی والا ملک اور تمام بڑی اور اہم آبادیوں والے ملک بشمول پاکستان لاک ڈاؤن ہو چکے ہوتے ہیں.
کل ہی چائنیز اپنے تئیں اعلان بھی کرتے ہیں کے ان کے پاس اسکی ویکسین بھی بن چکی ہے جو انسانی مدافعتی نظام کو اس "وائرس" کے خلاف مضبوط بناتی ہے. گو کہ اس پر ابھی وہ کھل کر بات نہیں کر رہے لیکن اسکے دعوے نظر آ رہے ہیں. اسی اثنا میں جب ماقبل یہ بات بھی موجود تھی کہ یہ "وائرس" بہت ہی پراسرار ہے اس کا جنیٹیک کوڈ بھی ابھی تک نہیں پتہ چل سکا. لیکن حیران کن طور پر ویکسین بنانے کا دعوی بھی کر دیا جاتا ہے؟ جبکہ حقیقت میں اگر آپ کسی پراسرار "وائرس" کے فارمولے کے مالک ہوں تو آپ کے پاس پہلے سے سب کچھ موجود ہوتا ہے وائرس بھی اور اسکی ویکسین بھی.
عین بالکل ہالی ووڈ کی ایپیڈیمیک وائرس پر بنی فلموں کی طرح. بس فرق اتنا تھا کہ اس بار فلم ہالی ووڈ نہیں بلکہ حقیقت میں تجارتی گروپ ڈراؤنے خواب کی شکل میں دکھا رہا تھا.
چائنیز میڈیا پر ایسی کئی باتیں نظر آ رہی ہیں کہ کیسے اب مغربی کمپنیاں برباد ہونے جارہی ہیں. چاہے دیکھنے میں بات کچھ اور لگے لیکن حقیقت یہی ہے کہ اسی کرونا وبا کی وجہ سے تمام مغربی کمپنیاں زمین بوس ہونے جا رہی ہیں. ویسے بھی چائنیز اس بابت مشہور ہیں کہ وہ پہلے کمپنیوں کو زمین بوس کرتے ہیں پھر انکو ارزاں نرخوں پر خرید لیتے ہیں. یہ وہی پرانا ورلڈ آرڈر ہے جسے دوسری جنگ عظیم کے بعد روتھ چائلڈز نے کامیابی سے استعمال کیا اور 1990 سے چائنیز کامیابی سے استعمال کر رہے ہیں.
یہ واضح ہے کہ وہ تمام کمپنیاں جو یو ایس اور یورپ سے تعلق رکھتی ہیں اپنی تمام ٹیکنالوجی اور سرمائے کے ساتھ چائنا کی جھولی میں گریں گی اور ان سب کمپنیوں کا مالک آسانی سے چائنا بن جائے گا. نمونے کے لیے امریکی ریاست نیورک کے گورنر کی 24 مارچ کی پریس کانفرنس دیکھیں اور اسکے بے بسی سے بھرے الفاظ پر غور کریں. ایسی تمام کمپنیوں کے چائنا برد ہو جانے کے بعد انکی تمام مرچنڈائز کا اکلوتا مالک چائنا آسانی سے بن جائے گا کیونکہ انکے کارخانے پہلے ہی سے چائنا میں موجود تھے بس اسکا مالک چائنا نہیں تھا لیکن اب آسانی سے بنتا جا رہا ہے جبکہ اسی اثناء میں مغربی اقوام اس وبا کا شکار ہو کر اپنے کھودے اسی کنویں میں ڈوب رہی ہیں جو پہلے وہ مسلمانوں اور کمزور اقوام کے لیے کھودا کرتے تھے.
واقعی نیو ورلڈ آرڈر مغربی اقوام کے لیے تجارتی ہولوکاسٹ ثابت ہوتا جا رہا ہے. جب یہ وبا ختم گی وہ مغربی گاہگ جو اپنے پیر سے لے کر سر کے بال تک مرچنڈائز کے زہر قاتل میں غرق ہو چکا ہے اسکی ہر پراڈکٹ کا مالک بلا شرکت غیر کون ہو گا؟ چائنا صرف اور صرف چائنا! کبھی کچھ بھی اتفاق نہیں ہوتا. 2011 کی ہالی ووڈ مووی Contagion کی عملی شکل کا دسمبر 2019 میں اچانک ظہور ہو جانا اتفاق انہی کے لیے ہو سکتا ہے جو آج بھی شیپلز ہیں. ذہنی غلام کو اپنے آقا کی عطا کردہ سوچ پر اعتبار ہوتا ہے۔ میں بذات خود آج سے پہلے تک انہی نقاط کو جوڑ رہا تھا لیکن اس انگریزی آرٹیکل اور صرف 24 مارچ کو وقوع پذیر ہونے والے واقعات نے میری اس تصویر کے ہر نقطے کو جوڑ دیا.
یہ کوئی اتفاق نہیں تھا کہ چائنہ یہ پروا کرتا کچھ ہزار بوڑھے وبا سے مر جائیں اور کچھ ہزار بوڑھوں کی پینشن دینی پڑے لیکن یہ دیکھیں کہ اس پورے کام سے انھوں نے آم کے آم گٹھلیوں کے دام موافق پوری دنیا کو کامیابی سے اپنے قدموں میں گرا لیا. میں اکثر کرونا وبا کے بابت جواب دیتا تھا کہ Many birds with stone مینی برڈز ود ون سٹون کے موافق یے ایلیٹ کے لیے یہ کرونا وبا! اب کرونا وبا کی وجہ سے مغربی اقوام مالیاتی طور پر ہار کے دہانے پر جا رہی ہیں اور جلد ہی اس کھائی میں گر جائیں گی. جس کی بابت اب انکے قومی لیڈر خدشات کی شکل میں اظہار بھی کرنے لگے ہیں. مغربی اقوام کو اس دلدل سے نکلنے کا فی الحال کوئی راستی نہیں مل رہا اور ہم سب بریک ڈاؤن اور لاک ڈاون اور ڈر کے دور میں جی رہے ہیں. کہ نہ کل کی خبر و امید کہ کب روزگار شروع ہو گا یا کہیں ہم بھی وائرس کا شکار نہ بن جائیں!
بالکل شطرنج کے کھیل کی طرح بتدریج چال چلتے ہوئے صرف چائنیز آج کی تاریخ تک 1.18 ٹریلین ڈالر ٹریژری کے دیو ہیکل سرمائے کے مالک بن چکے ہیں اور اس مد میں جاپان کو پچھاڑ چکے ہیں. اتنے خطیر سرمائے کا مالک کون ہے کیمونسٹ یہ مت بھولیں کہ کیمونسٹ بلاک پر مشتمل چائنہ کے اتحادی ممالک روس اور شمالی کوریا کیونکر اس کرونا وبا جسکا نام Covid 19 رکھا گیا ہے، سے بہت کم یا نا ہونے کے برابر متاثر ہوئے ہیں جبکہ دونوں ممالک چائنا سے متصل ہیں. جنوبی کوریا وائرس کا بری طرح شکار ہوا ہے. روس کے ساتھ ہی موجود یورپی ممالک میں اس وائرس نے تباہی مچا رکھی ہے. جبکہ شمالی کوریا اور روس سکون سے بیٹھے ہیں برائے نام انکی بابت کوئی خبر موجود ہے. کیا اتفاق ہے؟ نہیں اتفاق نہیں بہترین منصوبہ بندی ہے. کیونکہ یہ دونوں ممالک تجارتی گروپ کے اہم ترین ممبر اور چائنہ کے مستقل اتحادی ہیں. جبکہ دوسری جانب تمام دنیا اس وائرس سے تباہ کن طور پر متاثر ہے.
اکیلے بیٹھ کر سکون سے سوچئیے گا کہ کیسے اتنی جلدی ووہان کا ایپک سینٹر وائرس فری زون ہو گیا ہے؟
جبکہ ووہان کو کرونا واٸرس کا ایپک سینٹر چائنہ نے خود کہا اور اسکو پوری طرح سے قرنطینہ کر دیا تھا. اسی دوران ووہان تو تباہ کن طور پر متاثر تھا لیکن بیجنگ محفوظ تھا. پاکستان پر اسی کو فٹ کر کے دیکھیں. بیجنگ اس دوران قرنطینہ نہیں ہوا. سخت لاک ڈاؤن کو اسکی وجہ قرار دیا جاسکتا ہے لیکن اب کیسے اتنی جلدی ووہان میں سکولز کھل گئے اور کاروبار شروع ہو گیا؟
کو وڈ 19 کرونا واٸرس کو ایسا بنایا گیا تھا کہ سب کو لگے کہ یہ کارستانی یو ایس کی ہے تاکہ وہ چائنہ کو تجارتی جنگ میں مات دے سکے. جبکہ اسکا اصل نتیجہ اب سامنے آ رہا ہے کہ جب اٹلی، فرانس، سپین، جرمنی، برطانیہ، کینیڈا اور یو ایس سمیت دیگر جملہ ممالک اس وائرس سے بری طرح متاثر ہوچکے ہیں. اس وبا نے تمام ممالک میں پورا اسٹیٹ سٹرکچر تک ہلا کر رکھ دیا ہے.
ایسے عالمی کھیل کھیلے جاتے ہیں کہ جن کی مدد سے عالمی آبادی قاتل کو مقتول اور ظالم کو مظلوم بلا لیت لعل مان لیتی ہے! اور ایسی ہی آبادی کو ہم شیپلز کے نام سے جانتے ہیں. کہ حقیقت mirror image ہوتی ہے جبکہ عام لوگ image کو حقیقت مان کر چلتے رہتے ہیں!
ہو سکتا ہے ممکنہ طور پر واضح آثار ہیں کہ امریکن معیشت اسی وجہ سے دیوالیہ ہو جائے جس کی منصوبہ بندی بہت پہلے چائنہ نے کی تھی. پلان اب ایگزیکیوٹ ہو رہا ہے. چائنہ شروع سے جانتا ہے کہ یو ایس کو وہ فوجی و جنگی رو سے نہیں ہرا سکتا اور یہ حقیقت بھی ہے. امریکی فوجی اعتبار سے ابھی تک بلا شک و شبہ دنیا کا طاقتور ترین ملک ہے. تو عین ممکن ہے کہ کرونا واٸرس کا اصل نشانہ امریکہ اور نیٹو ممالک ہی ہوں. تاکہ امریکہ کی معیشت اس وائرس کی وجہ سے زمین بوس ہو جائے اور اسکی تمام فوجی طاقت اسی بیماری سے لڑنے پر صرف ہو جائے.
یاد رکھیں شروع سے فری میسنز ایسے ہی کرتے آئے ہیں پہلے وہ ایک عظیم اور ناقابلِ شکست سلطنت بناتے ہیں پھر جب انکو اسکا متبادل مل جاتاہے تو وہ اسے پوری طرح تباہ کر کے آگے چل دیتے ہیں.
بابل، مصر، ساسانی، روم قدیم دور کی ہر ایسی سپر پاور کو پہلے بنایا پھر اسکے متبادل کے آنے پر اسکو زمین بوس بھی کیا جاتا رہا ہے. حال ہی میں گذری امریکن صدر ٹرمپ کے مواخذے کی بری طرح ناکام ہونے والی تحریک بھی ممکنہ طور پر اسی تجارتی جنگ کا حصہ لگتی ہے. ممکنہ طور پر ٹرمپ باسسز کے شنکجے سے نکلنا چاہتا ہو اور اسے اسکی سزا دی جارہی ہو کہ اس نے بلا اجازت نیو ورلڈ آرڈر کے خلاف کیوں امریکہ کو دوبارہ سے عظیم بنانے کا نعرہ لگایا؟ جبکہ فیصلہ صادر ہو چکا تھا کہ اگلی سپر پاور چائنہ ہو گی. یہ سب عین ممکن ہے کہ ٹرمپ کے مواخذے کی تحریک کی روح رواں اسپیکر آف دی ہاؤس نینسی پیلوسی بھی اسی گریٹ گیم کا حصہ تھی. جبکہ اسی دوران نیو ورلڈ آرڈر کے برعکس ٹرمپ حقیقت میں اپنی پالیسیوں کی بنیاد پر امریکن اکانومی کو چائنہ کے مقابلے میں دوبارہ سے طاقتور بنا رہا تھا. ذہن میں رکھیں دونوں ایلیٹ گروپس آپس میں لڑتے رہتے ہیں. جیسے ہاتھیوں کی لڑائی میں گھاس پستی ہے ویسے ہی دنیا کی عوام پستی ہے. عین ممکن ہے کہ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کی سزا کے طور پر اب ان پر یہ وبا مسلط کر دی گئی ہو جسکی وجہ سے انکی معیشت تیزی سے زمین بوس ہوتی جارہی ہے. اسی کو دیگر مقاصد کے لیے پاکستان جیسے ممالک پر بھی مسلط کر دیا گیا ہو تاکہ ایک ہی پتھر سے کئی پرندوں کا کامیابی سے ایلیٹ شکار کرسکے؟ کچھ بھی ممکن ہے. چونکہ مواخذے کی تحریک ٹرمپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکی تو ہو سکتا ہے ٹرمپ کی بغاوت کی سزا کے طور پر وائرس پھیلا دیا گیا اور مزید cover up کے طور پر تمام دنیا کو بھی متاثر کر کے اسے عالمی وبا بنا دیا گیا ہو.
ویسے بھی اب تمام دنیا چائنہ کا ہی منت ترلہ کرنے پر مصروف یے کہ وہ ہی انکی مدد کرے اور اس وبا سے جان چھڑانے کے لیے طبی سامان مہیا کرے. کھربوں ڈالر کے طبی سامان کی پہلے سے ہی ایڈوانس بکنگ کرائی جاچکی ہے.
چائنہ اب دونوں ہاتھوں سے کرونا وبا کی وجہ سے دولت سمیٹ رہا ہے اگر یقین نہیں تو 24 مارچ 2020 کو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ این ڈی ایم اے کے سربراہ جرنل صاحب کی وزیراعظم کے ساتھ بیٹھے ہوئے جوابات کو غور سے دوبارہ سن لیجیے.
آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ اب وبا کی وجہ سے کیسے پوری دنیا لائن میں لگ کر چائنہ سے طبی سامان خرید رہی ہے. ایلیٹ کا اسٹائل ہے پہلے مسئلہ کھڑا کرو ہھر اسکا حل بھی بیچو اس بار یہ قرعہ چائنہ کی جھولی میں گرا ہے اور اب کی بار انکی باری ہے!
*پاکستان کے لیے حوصلہ افزا ہے کہ چائنہ اسے اپنا دوست رکھتا ہے سو ان شاء اللہ عزوجل پاکستان کی اتنی شامت نہیں آئے گی جتنی باقی ممالک کی آ چکی یا آنے والی ہے!*
لیکن
پھر بھی یہ مت بھولیں
*ان اللہ علی کل شئ قدیر!*
اپنا اس پر ایمان رکھیں. وہ لوگ جو مرضی کر لیں اللہ کی طاقت تک نہیں پہنچ سکیں گے.
مزید کچھ نقطے تاکہ آپ بھی اپنے نقطوں کو جوڑ کر تصویر مکمل کر سکیں کہ
ووہان کی وبا ایک شوکیس تھا جسے دکھا کا مال بیچا جا رہاہے. جیسے
جب یہ وبا ووہان پر اپنے عروج پر تھی تو صدر شی جن پنگ نے ووہان کا دورہ کیا تھا صرف ایم نائن ماسک پہن کر. ہے نا عجیب بات کہ ایپک سینٹر علاقے کا دورہ چین کا صدر کرے اور اسے پوری طرح سے حفاظتی سوٹ نہ پہنایا جائے؟ اول دورہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی پھر بھی ڈرامہ کے سکرپٹ میں غلطی ہو ہی جاتی ہے اسکی غلطی کو 24 مارچ کو صدر یپوٹن کے عملی طور پر سدھارا کہ ماسکو میں ہسپتال کے دورے کے دوران پورا سوٹ زیب تن کیا.
اعلی بہت ہی اعلی! ممکنہ طور پر صدر شی جن پنگ کو پہلے سے ہی اینٹی وائرس لگا کر ہی ووہان کا دورہ کرایا گیا ہو. تاکہ چائنہ کی دھاک پوری دنیا پر بیٹھے. اسکا یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ انکے پاس اس وائرس کا علاج موجود ہے بس وہ اسے اپنی مرضی سے اہنے من پسند لوگوں اور ممالک کو دیں گے.
ہمیں شاید مفت دے دیں اور پیسے باقی دنیا سے کما لیں 😉.
کچھ بھی ممکن ہے. اس وقت چائنہ پوری تندہی سے اپنی تجارتی رفتار دوبارہ سے پکڑچکا ہے. چائنہ کو ہر صورت تجارتی سپر پاور بننا ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے. اسی وجہ سے وہ تیزی سے دنیا کی تمام اہم ڈوبتی کمپنیوں کے سٹاکس خرید رہا ہے تاکہ بعد میں سب کچھ انکے قابو میں ہو اور جب تک ایسا ہو گا تب اچانک اعلان سامنے آئے گا کہ عالمی سپلائی کے لیے کرونا کی ویکسین چائنہ نے آفر کر دی ہے. ایسے جب تک یہ وبا ختم ہو گی تب تک پوری تجارتی دنیا کا نیا آقا چائنہ بن چکا ہو گا!

آخر میں دعا کہ
*اللّٰھم عافنی فی بدنی*
*اللّٰھم عافنی فی سمعی*
*اللّٰھم عافنی فی بصری*
*لآ الہ الا انت*
آمین

Tuesday, 17 March 2020

فوج کے اڈے: امریکہ تین اہم اڈوں سے اپنی فوج کو واپس بلا لے گا

_*عراق میں امریکی فوج کے اڈے: امریکہ تین اہم اڈوں سے اپنی فوج کو واپس بلا لے گا*_

BBC.Urdu

آئندہ چند ہفتوں میں امریکہ عراق میں القائم فوجی اڈے اور دیگر دو اہم اڈوں سے اپنی فوج کو نکال رہا ہے۔
اپنے آٹھ میں سے تین فوجی اڈوں کو بند کرنے کے فیصلے سے معلوم ہوتا ہے امریکہ عراق میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں بڑے پیمانے پر کمی لانے کا خواہاں ہے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت پر آیا ہے جب عراقی حکومت اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی جاری ہے۔
رواں ہفتے القائم فوجی اڈے پر ایک تقریب کا انعقاد کیا جائے گا جس میں باضابطہ طور پر امریکی حکام ساز و سامان سمیت اڈے کو عراقی فوج کے حوالے کریں گے۔
اس کے ساتھ ہی عراق میں شامی سرحد پر تمام تر امریکی موجودگی ختم ہو جائے گی۔

یہ اڈہ عراق کے پرانے ترین ٹرین سٹیشنوں میں سے ایک کے مقام پر تعمیر کیا گیا تھا اور اس کے قریب ہی دریائے فرات کے کنارے القائم نام کا ہی ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔
سنہ 2014 میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے ہاتھ آنے والا یہ عراق کا پہلا خطہ تھا اور سنہ 2017 میں عراقی فورسز کی جانب سے واپس لیے گئے آخری علاقوں میں سے ایک تھا۔

دولتِ اسلامیہ کے خلاف کامیابی کے بعد اس علاقے کو سرحد کے دونوں جانب ایرانی حمایت یافتہ ملشیا نے کنٹرول میں لے لیا تھا۔
اگرچہ عراقی فورسز اس علاقے میں موجود ہیں تاہم القائم کا علاقہ ابھی بھی ان ملیشیا میں سے ایک پی ایم ایف کے زیرِ اثر ہے۔

میں گذشتہ دو سال میں امریکی فورسز کے ساتھ دو مرتبہ القائم اڈے پر گیا ہوں اور میں نے دیکھا ہے کہ وہاں پر ماحول کس طرح تبدیل ہوا ہے۔

دسمبر 2017 میں وہاں عراقی اور امریکی دونوں جھنڈے نظر آتے تھے، جب امریکہ کی قیادت میں عراقی فوجی دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑ رہے تھے۔

اس وقت سرحد کے دونوں جانب ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا بھی دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑ رہی تھیں۔ اس وقت شاید وہ صورتحال دونوں کے لیے کچھ زیادہ پرسکون نہیں تھی مگر دونوں کا ایک مشترکہ دشمن دولتِ اسلامیہ تھا۔
ایسی صورتحال میں عراقی فوج ملیشیا اور امریکی فوج کے درمیان پیغام رساں کا کردار ادا کرتی تھی اور دولتِ اسلامیہ کے خلاف دونوں ہم آہنگی کے ساتھ کارروائیاں بھی کرتے تھے۔

_*’ہم انھیں جانے پر مجبور کر دیں گے‘*_

مگر دسمبر 2018 میں میرے آخری دورے کے موقعے پر خطے کا ماحول تبدیل ہو چکا تھا۔ ایرانی حمایت یافتہ تنظیمیں عراقی سکیورٹی فورسز کا حصہ بن چکی تھیں اور ان کی علاقے میں طاقت بڑھ رہی تھی۔

اس سال القائم پر صرف ایک ہی جھنڈا تھا۔ امریکیوں نے اس اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا تھا مگر اڈے کے باہر پورا علاقہ پی ایم ایف کے جھنڈوں اور بل بورڈز سے بھرا ہوا تھا۔ کہیں کہیں تو ایران کے سپریم لیڈر جنھیں پی ایم ایف کے بہت سے جنگجو اپنا روحانی پیشوا مانتے ہیں، کی تصاویر بھی نظر آرہی تھیں۔

امریکی قافلوں کو پی ایم ایف کے کنٹرول میں چیک پوائنٹس سے گزر کر شامی سرحد پر اپنی آرٹلری بیس پر جانا پڑتا تھا۔

آہستہ آہستہ پی ایم ایف نے خطے میں امریکی موجودگی کی اپنی مخالفت کا اظہار کرنا شروع کر دیا تھا۔

ان کا اب مؤقف تھا کہ وہ دولتِ اسلامیہ کا خود ہی مقابلہ کر سکتے ہیں۔ کاتب حزب اللہ نامی ان کے ایک ذیلی گروپ کا کہنا تھا کہ امریکہ شامی سرحد پر ان کی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے، جس الزام کی امریکیوں نے کئی بار تردید کی۔
پی ایم ایف کے بغداد میں صدر دفتر میں ایک انٹرویو کے دوران ابو آمنے نامی کاتب حزب اللہ کے ایک کمانڈر نے ہمیں بتایا کہ ’اگر وہ جانا نہیں چاہتے تو ہم انھیں جانے پر مجبور کر دیں گے۔‘
اس سال کے آغاز میں امریکہ کی جانب سے ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کو نشانہ بنائے جانے نے اس نازک صورتحال کو اور بھی بگاڑ دیا۔

جنرل قاسم سلیمانی ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ تھے اور انھیں بغداد کے ہوائی اڈے پر ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا۔ اس وقت ان کے ہمراہ پی ایم ایف کے نائب کمانڈر ابو مہدی المہندس بھی موجود تھے جو حملے میں مارے گئے۔ اس کے بعد عراقی پارلیمنٹ میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں تمام غیر ملکی افواج اور خاص طور پر امریکیوں کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا گیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ القائم کو چھوڑنے کا فیصلہ گذشتہ سال کر چکے تھے جب علاقے میں دولتِ اسلامیہ کا خطرہ کم ہو گیا تھا تاہم امریکی فوجیوں کے تحفظ کے حوالے سے خدشات اس اقدام میں تیزی لائے ہیں۔

_*حملوں میں تیزی*_

ایک سنیئر امریکی دفاعی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ کاتب حزب اللہ کی القائم فوجی اڈے کے قریب موجودگی اس فیصلے میں ایک اہم عنصر تھا۔
امریکہ قیارہ ایئر فیلڈ ویسٹ اور کرکک اڈے بھی خالی کرنے والا ہے۔ قیارہ فوجی اڈے کے ذریعے دولتِ اسلامیہ سے موصل واپس لینے کے لیے امریکی اتحادی آپریشن کیا گیا تھا۔ ان دونوں اڈوں پر گذشتہ کچھ ماہ میں راکٹ حملے ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں ایک امریکی کانٹریکٹر بھی ہلاک ہوا تھا۔
اس حملے کی ذمہ داری کاتب حزب اللہ پر ڈالی گئی تھی اور اس کے بعد گروہ کے عراق اور شام دونوں ممالک میں صدر دفاتر پر امریکی کارروائیوں میں 25 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اکتوبر 2019 سے اب تک عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر 25 راکٹ حملے کیے جا چکے ہیں جن میں 160 راکٹوں کا استعمال کیا گیا۔
گذشتہ ہفتے تاجی فوجی اڈے پر دو حملوں میں تین اتحادی فوجی ہلاک اور عراقی فوج کے دو اہلکار شدید زخمی ہو گئے تھے۔
تاہم امریکہ کی جوابی کارروائیوں میں جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا ان کے بارے میں امریکی مؤقف ہے کہ یہ کاتب حزب اللہ کے ہتھیاروں کے ڈیپو تھے مگر ان کارروائیوں میں تین عراقی فوجی، دو پولیس افسر اور ایک عام شہری ہلاک ہوئے۔
ان کارروائیوں سے امریکہ اور عراق کے درمیان کشیدگی بڑھی۔ اس کے جواب میں عراق جوائنٹ آپریشن کمانڈ (ملک میں تمام فوجی کارروائیوں کا کمانڈ سنٹر) نے ایک بیان جاری کیا جس میں دونوں کو نقصان کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور عراقی پارلیمنٹ کے امریکیوں کو ملک سے نکالنے کے ووٹ کی تائید کی گئی۔
اس وقت عراق میں سرکاری طور پر 5200 امریکی فوجی ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ ان تین اڈوں کے بند ہونے کے بعد کتنے واپس امریکہ جائیں گے اور کتنے عراق میں ہی کہیں اور تعینات کیے جائیں گے۔
عراق میں باقی امریکی فوجیوں کے مستقبل کے بارے میں بھی کچھ زیادہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔ امریکہ کو توقع ہے کہ عراقی فوج کے ساتھ ان کے تعلقات ختم نہیں ہوں گے مگر عراق میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ امریکہ کی اب ان کے ملک میں جگہ نہیں ہے


_*مزید دلچسپی سے بھرپور معلوماتی پوسٹس کیلیے فیسبک پیج پہ چلے جائیں نام اردو میں لکھ سرچ کریں👇*_

دلچسپ معلومات بائے سراج جوئیہ

Sunday, 15 March 2020

دنیا خوفزدہ ہو گئی

دنیا خوفزدہ ہو گئی
ایئر پورٹ ویران ،ہوٹل ویران ،کسینو ویران
جوئے خانے ویران ،شادی ہال ویران ،سینما گھر ویران ،بازار ویران
دوکانیں ویران ،گہما گہمیاں ختم گئیں ،رونقیں برباد ہو گئیں
تعلیمی ادارے دنیا بھر میں بند ،محفلیں ختم ،سمندر کے کنارے ننگے لوگوں سے ویران' زنا کے اڈے ویران ،شراب خانے ویران ،لوگ نوٹوں سے بھی ڈرنے لگے
امریکا نے یورپ سے آنے والوں کو روک دیا ،پوری دنیا نے منہ چھپا لیئے
جو کہتے تھے نقاب عورت کو قید کرنا ہے سب بے نقابوں نے
نقاب پہن لیئے ،پپیاں جپھیاں ختم ،چمیاں انگریزوں نے ختم کردیں ،کھانسنے والا خود کش لگنے لگا ،دمے والا ایٹم بم ،
ہر بندہ دوسرے سے خوف زدہ ہو گيا ،دنیا کی ترقی وڑ گئی جہاں سے نکلی تھی
سائنس وڑ گئی ،میڈیکل سائنس زمین بوس ہو گئی ،دوائياں  راکھ بن گئیں
انجیکشن بے اثر ہو گئے ،موت کے سائے منڈلانے لگے ،چند دنوں میں
خوف نے پوری دنیا کو اپنی  لپیٹ میں لے لیا ،آج قومی اسمبلی کے شیروں کے چہرے لٹکے ہوئے تھے
اور اپنی جان کے لالے انکو پڑے ہوئے تھے ،کہہ رہے تھے سب سے پہلے اسمبلی ممبران کو فوقیت دی جائے ،ایران میں وزیر مر گئے ،جیلیوں میں خوف پھیل گيا
ایران جیسے ملک نے پانچ ہزار بڑے مجرم قیدی رہا کر دیئے ،امریکا ایران سے اپنے قیدیوں کی بھیک مانگنے لگآ ،ایران نے آئی ایم ایف سے پانچ ارب ڈالر پہلی دفعہ مانگ لیئے ،سعودی شیر دبک گئے ،جو کہتے ہیں غیر اللہ سے مدد مانگنا شرک ہے وہ غیر اللہ کے آگے لیٹ گئے ،لوگوں کے عقیدے بدل گے ،مذہب
زمین بوس ہوگئے ،اللہ کا خوف نہیں ،کرونا کا خوف چھا گيآ ،
لوگ ٹیکسی پر نہیں بیٹھتے ،ہر انسان بل میں گھسنے کی کوشش میں ہے
ابھی کل اموات صرف 5000 ہیں اگر دس ہزار سے بڑھ گئیں تو پتہ نہیں کیا ہوگآ
ایک انجانا سا خوف چھا گيا ،موت برحق ہے ،جس نے کرونا سے مرنا ہے
وہ اسی سے مرے گآ یہ اسکے پیدا ہونے سے پہلے لکھ دیا گيا ،
فلاں بڑا ترقی یافتہ ہے ،ٹرمپ نے کہا ہمارے سائنس دان ایک دن میں ویکسین نکال لیں گۓ ،ابھی سائنسدانوں نے کہا ایک سال لگ سکتا ہے  وہ بھی یقین سے نہیں کہہ سکتے
عنقریت مسجدیں ویران ہو جائيں گی اگر حرمین شریفین خالی ہو سکتے ہیں تو یہاں تو خیر سے جھاڑو بھی کوئی نہیں لگآتا
کوئی ملک دوسرے ملک کی مدد کا وعدہ نہیں کر رہا کسی ملک کے ڈاکٹروں کی ٹیم کہیں نہیں جا رہی
میرا جسم میری مرضی کا جلوس رکوائيں ،بلکہ ٹرن مارچ کروائیں
کاش انسان اپنے رب سے اتنا ڈرتا
تو فرمایا،،،،،، ولمن خاف مقام ربہ جنتان  ،،،جو اپنےرب کے سامنے جانے سے ڈر گيا اسکے لیئے دو جنتیں ہیں
اے انسان تو کتنا بزدل ہے ،وہ جو کہتے ہیں میں صرف اللہ سے ڈرتا ہوں وہ بھی لیٹ گئے ،
انسان پہلے حوصلہ ہارتا ہے ،پھر سب کچھ ہار جاتا ہے ،
اگر آج کافر ،مشرک ،یہود و نصاری اور مسلمان سب ایک جیسے خوف والے ہیں ۔تو پھر اللہ پر بھروسہ کون کرےگا۔

موت کا ایک دن معین ہے ۔نیند کیوں رات بھر نہیں آتی ۔

Friday, 21 February 2020

History of Renala Khurd District Okara

رینالہ خورد کی تاریخ پر ایک نظر ۔
(پوسٹ شیئر کریں اور پیج ضرور لائک کریں)
#ملیانوالہ سے #رینالہ #خورد تک کا سفر ۔

اوکاڑہ کی تحصیل رینالہ خورد چھوٹا سا شہر ہے
جس کے اندر ان گنت کامیابیوں کے راز پنہاں ہیں۔

اوکاڑہ سے 12 کلومیٹر مشرق کی طرف جبکہ لاہور سے 116 کلومیٹر مغرب کی جانب جی ٹی روڈ اور موٹر وے کے سنگم پر رینالہ خورد شہر واقع ہے۔

صدیوں پہلے یہ علاقہ بنجر اور غیر آباد ہوا کرتا تھا جہاں بیری کے درختوں کی بہتات تھی۔

"بیری جسے پنجابی میں مَلی یا مَلے بھی کہتے ہیں اسی وجہ سے اس جگہ کا نام ملیانوالہ پڑ گیا۔"

"اور بعض لوگوں کے کہنے کے مطابق "ملے" ایک الگ درخت ہے
جو کثرت سے اس علاقے میں موجود تھا جس کی وجہ سے اس کا نام ملیانوالا مشہور ہو گیا۔"

اس خطے پر جب انگریزوں کی حکومت آئی تو انہوں نے سنہ 1914 میں باقاعدہ طور پر اس شہر کی بنیاد رکھی۔

شہر کا نام اس وقت کے کرنل ورنلر کی بیٹی رینالہ کے نام پر رکھا گیا۔

اس علاقےکو آباد کرنے کے لئے یہاں کے 20 گاؤں فوجیوں کو الاٹ کئے گئے جو آج بھی ون ایل کے نام سے مشہور ہیں۔

رینالہ خورد شہر کی آبادی 72 ہزار کے قریب ہے شہر کی دو یونین کونسلز ہیں اور رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 35 ہزار ہے۔

کرنل ورنلر نے سنہ 1913 میں رینالہ خورد میں پانچ ہزار ایکڑ زمین لیز پر لے کر ایک سٹڈ اسٹیٹ فارم بنایا  جہاں گھوڑوں کی افزائش، جانوروں کے لیے چارہ اور ڈیری مصنوعات تیار کی جاتی تھیں۔

کلمہ چوک رینالہ خورد

قیام پاکستان کے بعد اس فارم کو فوج نے قبضہ میں لے لیا جو کہ اب بھی موجود ہے جہاں اعلیٰ نسل کے گھوڑوں کی افزائش ہوتی ہے اور یہاں کے گھوڑے بین الاقوامی ڈربی ریس میں کئی بار جیت کر رینالہ خورد کا نام روشن کر چکے ہیں۔

سنہ 1924 میں بننے والی نہر لوئر باری دو آب جو کہ 12 لاکھ ایکڑ زرعی رقبہ کو سیراب کرتی ہے جس میں رینالہ خورد کا 60 ہزار ایکڑ سے زائد زرعی رقبہ بھی شامل ہے۔

رینالہ خورد میں نہر لوئر باری دوآب سے چھوٹی بڑی آٹھ نہریں نکلتی ہیں جو یہاں کی زرعی زمینوں کو سیراب کرتی ہیں۔

انجینئر سر گنگا رام نے سنہ 1925 میں لوئر باری دوآب پر ایک سمال ہائیڈل پاور سٹیشن بنایا جس سے ایک اعشاریہ ایک میگا واٹ بجلی پیدا کی جاتی تھی۔

یہ پاور سٹیشن آج بھی کام کر رہا ہے لیکن حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے صرف 450 کلو واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔

نہر لوئر باری دو آب کے ایک طرف رینالہ خورد شہر آباد ہے اور دوسری طرف سٹیٹ ہے جسے میم سٹیٹ کہا جاتا ہے۔

1913 میں اس میم نے اپنی سٹیٹ میں لکڑی کاعالیشان بنگلہ بھی تعمیر کروایا تھا جو آج بھی اپنی خوبصورتی کی مثال ہے۔ لیکن اب اس بنگلے میں آرمی کے دفاتر بنے ہوئے ہیں۔

ہائیڈل پاور رینالہ خورد

رینالہ خورد کا مچلز فروٹ فارم جو کہ دنیا کی بڑی فوڈ کمپنیوں میں شمار ہوتا ہے، اسے دو انگریز بھائیوں جنہیں مچلزبرادرز کہا جاتا تھا نے 1933 میں قائم کیا تھا۔

مچلز کارخانے کے ساتھ عیسائی مشنری کی طرف سے 1923 میں بنایا جانے والا خواتین کی سلائی کڑھائی کا فلاحی ادارہ بنایا جو اب فاطمہ ڈسپنسری کے نام سے موجود ہے جس کی نگرانی ایک انگریز خاتون کرتی ہیں۔

سنہ 1923 میں ہی مچلز کارخانے کی ایک مربع زمین پر ایک کانونٹ گرلز سکول اور چرچ بھی بنایا گیا تھا جو آج بھی موجود ہے۔

لاہور اور کراچی کی بڑی ریلوے لائنز بھی اسی شہر سے گزرتی ہیں۔

رینالہ خورد میں 1923  میں ایک ریلوے اسٹیشن بھی بنایا گیا تھا لیکن 2012 میں اس ریلوے سٹیشن پر تمام گاڑیوں کے سٹاپ بند کر دیئے گئے۔

رینالہ خورد شہر میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے تین تین سرکاری ہائی سکول اور ایک ہائر سیکنڈری سکول موجود ہے اس کے علاوہ ڈگری کالج، ووکیشنل ٹرینگ انسٹی ٹیوٹ، ڈی پی ایس سکول، فوجی فاؤنڈیشن سکول، سپیشل ایجوکیشن سکول، ایک یونیورسٹی کیمپس اور پندرہ کے قریب پرائیوٹ سکولز بھی موجود ہیں۔

شہر میں دارالمطالعہ سرکاری لائبریری بھی بنائی گئی تھی جو اب بند ہو چکی ہے۔

یہاں ایک مرکزی ڈاکخانہ بھی ہے۔

عوام کو تحفظ دینے کے لئے دو پولیس سٹیشن بنائے گئے ہیں۔

زرعی اجناس کی خرید وفروخت کے لیے 1913 میں شہر کے وسط میں ایک غلہ منڈی بنائی گئی۔

رینالہ خورد میں سو سالہ قدیم پن چکی آج بھی مکینوں کو صحت بخش آٹا فراہم کر رہی ہے یہ چکی 1912 میں سر گنگا رام نے لگوائی تھی۔

شہر میں بلدیہ کا دفتر بھی ہے جس کا افتتاح 29 نومبر 1968 کو مظفر قادر سی ایس پی، ڈپٹی کمشنر ساہیوال نے کیا تھا۔

عوام کو صحت کی سہولتیں دینے کے لیے ایک تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال قائم ہے۔

یہاں جانوروں کے لیے ایک شفا خانہ بھی ہے۔

شہر میں چھ مساجد اور چھ دینی مدارس بھی ہیں

رینالہ خورد میں کھیلوں کے فروغ کے لیے 1982 میں اس وقت کے ممبر قومی اسمبلی سید سجاد حیدر نے ایک سٹیڈیم بھی بنوایا تھا لیکن حکومتی عدم توجہ کی بنا پر زبوں حالی کا شکار ہے۔

قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر عبدالرؤف اور قومی ہاکی ٹیم کے دو اولمپین کھلاڑی محمد سرور اور محمد زبیر کا تعلق بھی رینالہ خورد سے ہے۔

ادبی لحاظ سے اقبال اسد، راؤ سخاوت اور دلبر ساقی یہاں کی نمایاں شخصیات تھیں۔

روحانی بزرگ خواجہ عبدالصمد کا مزار بھی شہر میں ہے جہاں دنیا بھر سے عقیدت مند ان کی روحانیت سے فیض یاب ہونے کے لیے آتے ہیں۔

گورنمنٹ ڈگری کالج رینالہ خورد

شہر کے زیادہ تر لوگ کاروباری اور ملازمت پیشہ ہیں۔ ملازمت پیشہ لوگوں میں اکثریت پاک فوج میں اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہے۔

یہاں ایک ٹیلی فون ایکسینج بھی ہے۔

رینالہ خورد کی مشہور شخصیات کا ذکر کریں تو ڈاکٹر رشید اور ڈاکٹر ذکاء کا شمار یہاں  اولین ڈاکٹر میں ہوتا ہے حکیم ہارون الرشید کا بھی طب کی دنیا میں ایک نام ہے۔

راؤ عبدالرشید آئی جی پنجاب اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مشیر رہ چکے ہیں راؤ جلیل بھی ڈی آئی جی پنجاب رہ چکے ہیں۔

ضربِ عضب کےچار فوجی شہدا کا تعلق بھی رینالہ خورد سے ہے۔

تحصیل رینالہ خود ضلع اوکاڑہ، پنجاب، پاکستان کی تین تحصیلوں میں سے ایک تحصیل ہے۔اس تحصیل کا صدر مقام رینالہ خوردہے۔ اس میں 155 یونین کونسلیں ہیں۔ یہاں کے باغات بالخصوص مچلز کا باغ دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اخترآباد تحصیل رینالہ خورد کا  ایک اہم قصبہ ہے اور یہاں کی شکر منڈی بھی
پاکستان میں مشہور ہے۔

رینالہ خورد ضلع اوکاڑہ کا ایک خوبصورت  شہر ہے،
رینالہ خورد صوبہ پنجاب کے شمال مشرق میں ضلع اوکاڑہ کا ایک ترقی کرتاہوا شہر ہے۔ رینالہ خورد ضلع اوکاڑہ کی انتظامی لحاظ سے تحصیل ہے۔ سطح سمندر سے اس کی بلندی اندازہََ57فٹ یا 170میڑ ہے یہ لا ہور سے 117کلومیڑ سے 10 کلومیڑ جنوب مغرب لا ہورکی طرف نیشنل ہا ئی وے GT Roadپر واقع ہے جہا ں سے لا ہور، کراچی ریلوے لائن بھی گزرتی ہے۔ یہ شہر ایک مشہور پھلوں کے باغات جو لو ئرباری دوآب نہر اور ملتان روڑ کے چاول کی پیداوار کی وجہ سے بھی مشہور ہے یہ فصلیں لوئر باری دوآب نہر اور دیگر چھوٹی نہروں کے وافر پانی کی وجہ سے اگائی جاسکتی ہیں۔

#تہذیب

یہ علا قہ اپنی تہذیب اور تمدن کی عکا سی کر تاہے۔ ساون میں میلے ان اطوار میں سب سے نما یا ں چیز ہیں جس میں مختلف اقسام کی کھیلیں ڈھول کی تھا پ پر پیش کی جا تی ہے اورمٹھا ئیوں اور کھلونوں کی دکا نیں سجا ئی جا تی ہیں۔ ادھر کی آبادی پیشہ کے لحاظ زراعت پر انحصار کر تی ہے، اگرچہ لو گوں کی کا فی تعداد فکٹریوں اوردفتروں میں بھی کا م کرتی ہے اور دودھ کی مصنوعات اور پھلوں کی مصنوعا ت ا س علاقہ کی خاص علا مت ہے ۔

نیا پاکستان ہاٶسنگ سکیم۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خاں نیازی نے 4 مٸی 2019 بروز ہفتہ کو رینالہ خورد میں نیا پاکستان ہاوسنگ سکیم کا کا سنگ بنیاد رکھ دیا ۔

#لیکن
رینالہ خورد کی طرف آنے والے تمام راستے سواے چند ایک کے بنجر ہو چکے ہیں ۔
اہل رینالہ کی حکومت وقت سے اپیل ہے کہ براے کرم اس طرف بھی توجہ فرماٸی جاے۔




منجانب

Waqas Mahmood
Masters of History  ۔

00923434057328
یہ معلومات دوستوں سے بھی شٸر کریں ۔

Tuesday, 11 February 2020

جب عورت نے مرد سے محبت کا معیار صرف دولت رکھ لیا

جب عورت نے مرد سے محبت کا معیار صرف دولت رکھ لیا تب سے مرد نے دل کے اوپر جیب سجا لی اور دل ڈھانپ لیا...
 اور جب مرد نے محبت کا معیار صرف ظاہری حسن سمجھا تو عورتوں نے بھی دوپٹہ اتار دیا اور کاسمیٹکس اوڑھ لی...
 یوں دونوں عمومی ھوگئے اور سب ہنسی خوشی برباد ھونے لگے_________ :)

Saturday, 1 February 2020

America Russia israil Policies Against Islamic Countries, Be aware Muslims,

America Russia Policies Against Islamic Countries,

    Be aware Muslims,

The people who think that the ill situation and political insstatabilty of Pakistan is an internal matter of Pakistanis. They have to overview the circumstances of changing Government to killings and week economics.
After the 2nd world war America and Russia raised as tow world super powers and then cold war started. This spread the activities of Intelligence agencies. The two countries some times invest in armed forces and some time they sported terrorists and other armed groups. In these two situations people burns and people being killed by them.
The wars are not now fought on the borders but inside the borders. After destruction of Russia this character is playing America and its apostales . Now Russia once again rising color ever America is ruling. Russia sported oposition and armed groups. Where ever in the parts of world Russia ruling America Russia sports terrorists and armed groups.
Their old and foremost dream of these two countries is to fight amoug Muslim countries. America and Russia are responsible for ill condition bed governance and political instability. They think their obligation to interfere support and fund the armed groups in the other Tartary . the cold war among the Muslim countries now converting into battle field and to America and Russia.
America and west makes Shea and Sunni a hot issue by their cleverness. Some countries are saved like Bangladesh Indonesia ,Malaysia and some countries of north Africa become they have one section .but in all other countries these two section (Shea + Sunni) are killing each other for the sake of Allah Muhammad. Sahaba and Prophet Family. So this condition is sectable for America and Russia. They are spreading so called democratic movments. Human right movement s some where terrorist groups and armed forces.
Who suitable for them they maked his king and who is opposite they hang him I am writing some success full and some unsuccessful full movement so that you can understand how they was their influenc  in other countries and change their governments.
1                     Shakri-al-kwatli was the government head of Syria. America and Europe wants to get Oil through a pipeline government denied to do this then CIA supported  nation socialist party and started a movement against government. CIA sent their two agents (Miles copeland and stephen meade) to observe the movement. Situation become critical army chief Hasni Alzoim   applied Marshal law on 29 March in 1953 Iranian Prime minster Masaddaq was the prey. General Fazal-ullah hadi apply marshal law. They create situation according to the by starting many movements. The document obtained from US. Ambcay reverted that 25 thousand dollars were given for the fare of the buses the vision to abort the government was the Oil refinery which be nationals. In Goaty mala a dictator jorg obeco was head due to American support but in 1950elections, Jecoboarbez won with a high mandate.
He started to give ownership of land to the farmers but American companies were occupied on the land. One American company (U-F.C.o) enforced the congers members to aborts the govt. so 1954 CiA support army to end the govt. In 16 March 1959amercia started a armed movement in Tibet. They made Dalai lamea hero in CIA hally camp they trained 259 gorillas and sent these to Tibet so that they trained other people. This war was continues till 1962. When Chins forces in the north Nepal and in 1974 their relations with china become good then America end this mission.
South Veit nam where Donk van,s govt establish by American support, but Donk van was punished because he was soft to Buddhist protestants  who kill Buddha  and destroy their religions places. Anarehy   spread and next day Donkvan and his brother were hung. Brazilian president started the scheme to benefit people from the profit of American companies . America started armed movement against (Jaao Goulart) by a mission named brother Sam. 110 ton weapon sent from New Jersey to Brazil. 1st against 1964 the govt was aborted. Chilli is a country where millions of people killed by CIA. On 11 September 1973 in Argentine Azabil  peron elected the president. The America started lame excuses of communist gorillas. 26 march 1976 Azabils govt was crushed by general Rafael. The America point of wieus was that by govt started peace dialog with gorillas. 1979 Nakara goa gorals were supported by U.S. this time gorals were American friends. The weapon of these contra gorillas was then given to nan.Contra sandal is the Hogo shavez of vanzulla they started and private media channels movement. But it was unsuccessful because Hogo shavez was very famous.
Know world have to know that the main issue is lam and Muslim for America and Europe. They are saying Muslims are the dangerous for world peace. By Arab spring in Maraco – Twins – Syria and Yemen. First they call this democratic victory and this again indulges them in war.
Against goddafi in Libya they supported those terrorist which America myself called Terrorists. In 1 Syria and iraq they create Shea and Sunni issue and kill millions of people. From world wide corporate sector money epically India corporate sector money was used to win of Nerender mode. In Afghanistan they tried to elect anti Pakistan govt. Iran and Saudi Arabia become enemy by this diplomacy. Now that cold war of Muslim and the planning of Europe start. War is ready. See who win and who down their know…wait…..

Posted by ,                                                                                 Translated by,
Waqas Mehmood

What is the New World Order? Discover the Facts

  What is the New World Order? Discover the Facts In political and historical discourse, "new world order" refers to a new period ...